افغان سرحد کی بندش: ہر ماہ اربوں کا نقصان، سب سے بڑی قیمت انسان ادا کر رہا ہے

     Pak afghan border 

پاکستان: پاک افغان سرحد کی بندش سے پاکستانی برآمد کنندگان کو تقریباً 177 ملین ڈالر، یعنی لگ بھگ 50 ارب روپے ماہانہ کے نقصان کا اندازہ ہے۔ �

افغانستان: افغانستان کے حوالے سے براہِ راست خالص ماہانہ نقصان کا مستند ایک عدد دستیاب نہیں، تاہم وہاں پاکستان کے ساتھ تقریباً 200 ملین ڈالر ماہانہ تجارت متاثر ہوئی اور متبادل راستوں کی وجہ سے اخراجات بڑھے۔ 




Zohaib modren zari centre 

ہر مہینے اربوں کا نقصان، مگر سب سے بڑی قیمت انسان ادا کر رہا ہے

پاکستان: تقریباً 177 ملین ڈالر ماہانہ یعنی تقریباً 50 ارب پاکستانی روپے ماہانہ کے برآمدی نقصان کا تخمینہ سامنے آیا ہے۔

افغانستان: پاکستان کے ساتھ پہلے تقریباً 200 ملین ڈالر ماہانہ کی تجارت ہوتی تھی۔ سرحدی بندش کے بعد یہ تجارت بری طرح متاثر ہوئی اور کاروباری سرگرمی کو دوسرے، زیادہ مہنگے راستوں پر منتقل ہونا پڑا۔ یہ رقم افغانستان کا خالص ماہانہ نقصان نہیں بلکہ سابقہ ماہانہ تجارت کا حجم ہے، اس لیے اصل نقصان اس سے الگ ہو سکتا ہے۔

اور یہ صرف کاروبار کا نقصان نہیں۔

اس کے پیچھے کھڑے ہیں ہزاروں ٹرک، ڈرائیور، مزدور، کسان، دکاندار، کمیشن ایجنٹ اور وہ خاندان جن کا چولہا روز کی آمدنی سے جلتا ہے۔

پاک افغان سرحد کئی مہینوں سے بند ہے۔ اس دوران نقصان صرف ایک ملک کو نہیں پہنچا۔ تجارت کا ایک راستہ بند ہوا تو دونوں طرف کاروبار کی گردش سست ہوئی، مال پھنس گیا، ٹرانسپورٹ کا خرچ بڑھا، خراب ہونے والا پھل اور سبزی ضائع ہوئی، اور بہت سے چھوٹے کاروباروں کا سرمایہ طویل عرصے کے لیے رک گیا۔

پاکستانی تجارتی حلقوں کے مطابق2025 کے بعد سے سرحدی بندش نے تجارت پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ ایک حالیہ اندازے کے مطابق خیبر پختونخوا سے متعلق تجارت میں ہی مجموعی نقصان تقریباً 2.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا، جس میں تقریباً 1.644 ارب ڈالر برآمدات اور 817 ملین ڈالر درآمدات سے متعلق بتائے گئے۔ یہ تجارتی حلقے کا تخمینہ ہے، آزادانہ طور پر حتمی تصدیق شدہ سرکاری حساب نہیں۔


دوسری طرف پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے بھی خبردار کیا ہے کہ سرحدی بندش سے خراب ہونے والی زرعی اجناس کی تجارت خاص طور پر متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان افغانستان کو پھل اور سبزیاں برآمد کرتا ہے اور افغانستان سے انگور، انار اور دوسری تازہ اجناس بھی درآمد کرتا ہے۔ بندرگاہ، ٹرانسپورٹ، کنٹینر، ڈیمریج اور ایندھن کے اخراجات بڑھنے سے بعض حالات میں مال کی لاجسٹک لاگت خود مال کی قیمت کے قریب پہنچ جاتی ہے۔

یہاں ہمیں ایک لمحے کے لیے اعداد و شمار سے باہر نکل کر انسان کو دیکھنا چاہیے۔

ایک ٹرک سرحد پر کھڑا ہے۔

اس ٹرک کے اندر شاید پھل ہے، سبزی ہے یا کوئی اور ایسا سامان ہے جس کی عمر چند دنوں سے زیادہ نہیں۔ لیکن اس ٹرک کے باہر بھی ایک پوری دنیا کھڑی ہے۔

7ڈرائیور کئی دن گھر سے دور ہے۔


مزدور اپنی اجرت کا منتظر ہے۔

تاجر کی رقم مال میں پھنسی ہوئی ہے۔

کسان سوچ رہا ہے کہ اگلی فصل کا خرچ کہاں سے آئے گا۔

دکاندار دیکھ رہا ہے کہ گاہک کہاں گئے۔

اور گھر میں بچے منتظر ہیں کہ باپ کب واپس آئے گا۔

یہی وجہ ہے کہ سرحدی بندش کو صرف سیاسی یا تجارتی مسئلہ سمجھنا کافی نہیں۔ اس کا ایک گہرا انسانی پہلو بھی ہے۔

تازہ رپورٹس میں سرحد بند ہونے سے پھنسے ہوئے کاروباری مال، خراب ہونے والی زرعی پیداوار، ٹرکوں پر اضافی جرمانوں اور یہاں تک کہ ایسے مریضوں کے مسائل بھی رپورٹ ہوئے ہیں جن کے علاج کے لیے سرحد پار جانا ضروری تھا۔

پاکستان اور افغانستان دونوں کے درمیان مسائل اور سکیورٹی کے خدشات اپنی جگہ حقیقت ہیں۔ ہر ملک کو اپنی سرحد اور اپنے شہریوں کی حفاظت کا حق حاصل ہے۔

لیکن سوال یہ ہے:

کیا سکیورٹی برقرار رکھتے ہوئے ایسا محفوظ نظام نہیں بنایا جا سکتا جس سے ضروری تجارت، علاج، خوراک اور عام لوگوں کی آمدورفت مکمل طور پر بند نہ ہو؟

کیونکہ جب ایک سرحد چند دن بند ہوتی ہے تو تجارت متاثر ہوتی ہے۔

جب وہ ہفتوں بند ہوتی ہے تو کاروبار متاثر ہوتا ہے۔

اور جب وہ مہینوں بند رہتی ہے تو اس کا اثر گھروں، کھیتوں، بازاروں اور انسانی زندگیوں تک پہنچ جاتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسئلہ صرف دو حکومتوں کا مسئلہ نہیں۔

یہ سرحد کے دونوں طرف رہنے والے عام لوگوں کا مسئلہ بھی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اختلافات اپنی جگہ رہیں، لیکن انسانی زندگی، جائز تجارت، کسان کی محنت اور روزگار کا راستہ مکمل طور پر بند نہ ہو۔

سرحدیں ملکوں کو الگ کرتی ہیں،
مگر تجارت، رشتے اور انسانی ضرورتیں لوگوں کو جوڑتی ہیں۔

Zohaib Modern Zari Center









Comments

Popular posts from this blog

Zohaib modern zari center

Wana wazirestan plum fruit وانا وزیرستان الو بخارہ