وانا وزیرستان۔
وانا وزیریستان
وانہ، جنوبی وزیرستان کے پہاڑی سلسلے میں ہر سال مارچ کے مہینے میں جب دھوپ نرم ہوتی ہے اور ہوا ہلکی سردی کے ساتھ درختوں کے پھولوں کو جگاتی ہے، تو سیب، آلوبخارا، آڑو اور ناشپاتی کے درخت اپنی رنگت، خوشبو اور نرمی کے ساتھ زمین اور آسمان کے درمیان ایک جادوئی منظر پیش کرتے ہیں۔ یہ منظر نہ صرف قدرتی حسن کا مظہر ہے بلکہ کسان کی محنت، علم اور تجربے کا بھی نتیجہ ہے۔ ہم Zohaib Modern Zari Centre میں ہر سال یہاں کے باغات میں فصل کی دیکھ بھال، تحقیق اور عملی تجربات کی بنیاد پر جدید اقدامات کرتے ہیں تاکہ پیداوار محفوظ رہے اور معیار بلند ہو۔
سیب کی داستان
سیب کے درخت اپنی خوبصورتی اور ذائقہ کے لیے مشہور ہیں، مگر فصل کی حفاظت میں سب سے بڑا مسئلہ Codling Moth یا مقامی زبان میں سنڈی ہے۔ یہ کیڑا چھوٹے پھلوں پر انڈے دیتا ہے اور چند دنوں میں لاروا پھل کے اندر جا کر اسے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اگر بروقت سپرے نہ کیا جائے تو پیداوار 60–70 فیصد متاثر ہو سکتی ہے، جس سے کسان کا محنت اور وقت ضائع ہو جاتا ہے۔
ہم نے اپنے تجربات سے معلوم کیا کہ فروٹ سیٹ کے 3–4 دن بعد Emamectin benzoate یا Spinosad کا سپرے کرنے سے لاروا پر مؤثر قابو پایا جا سکتا ہے۔ تقریباً 10–15 دن بعد، جب پتوں پر سفید سفوف جیسا مادہ نمودار ہوتا ہے، تو ہم Powdery Mildew کے لیے Hexaconazole یا Penconazole کا استعمال کرتے ہیں۔ مئی کے آخر سے جولائی کے وسط تک پٹاش سپرے فصل کی رنگت، پھل کے معیار اور پیداوار کو بڑھانے میں بہت مؤثر ہے۔
ہمارے مشاہدات کے مطابق سال بہ سال ایک ہی دوا استعمال کرنے سے کیڑوں میں مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے، اس لیے ہم سالانہ دوا کو rotate کرتے ہیں: سال اول میں Emamectin، سال دوم میں Chlorantraniliprole اور سال سوم میں Spinosad۔ سپرے کا وقت، مقدار اور درجہ حرارت ہمیشہ دھیان میں رکھا جاتا ہے تاکہ نہ صرف فصل محفوظ رہے بلکہ شہد کی مکھیوں اور دیگر مفید حشرات کو نقصان نہ پہنچے۔
آڑو کی داستان
آڑو کے درخت اپنے خوش رنگ پھلوں کے لیے جانے جاتے ہیں، مگر ان کے ننھے پھل اکثر سنڈی اور فنجی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ Powdery Mildew اور Anthracnose آڑو کے پودوں پر زیادہ ظاہر ہوتے ہیں، جس سے پھل کا معیار اور پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
ہم Hexaconazole یا Wettable Sulphur کے سپرے کرتے ہیں اور متاثرہ پھل زمین سے اٹھا کر تلف کرتے ہیں۔ آڑو کی فصل میں ہر سپرے اور ہر کٹائی کا وقت انتہائی اہم ہے تاکہ پھل کا سائز اور معیار برقرار رہے۔ مئی کے آخر سے جولائی کے وسط تک پٹاش سپرے آڑو کے درخت کی صحت اور پھل کی رنگت کے لیے بہت مؤثر ثابت ہوا ہے۔
ہمارے تجربات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگر سپرے دیر سے کیا جائے یا مقدار کم ہو تو سنڈی اور فنجی بیماریوں کی شدت بڑھ جاتی ہے، جس سے نہ صرف پیداوار کم ہوتی ہے بلکہ مارکیٹ میں پھل کی قیمت بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے عملی اقدامات، وقت کی پابندی اور مناسب مقدار کے سپرے کی ضرورت ہمیشہ اہم رہی ہے۔
ناشپاتی کی داستان
ناشپاتی نسبتاً مزاحم پھل ہے، مگر پھر بھی Powdery Mildew اور کچھ کیڑوں کے حملے سے متاثر ہو سکتی ہے۔ فروٹ سیٹ کے فوراً بعد سپرے اور 10–15 دن بعد فنجی سپرے ناشپاتی کے درخت کی حفاظت اور پھل کے معیار کے لیے ضروری ہے۔
ہمارے مشاہدات کے مطابق مئی کے آخر میں پٹاش سپرے ناشپاتی کی فصل کو مضبوط بناتا ہے اور پھل کی رنگت، سائز اور معیار کو بہتر کرتا ہے۔ ناشپاتی کے درختوں میں سال بہ سال دوا rotate کرنے سے نہ صرف کیڑوں اور بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ مارکیٹ میں پھل کا معیار بھی بلند رہتا ہے۔
ناشپاتی کی فصل میں عملی اقدامات میں متاثرہ پھل اٹھانا، درخت کی باقاعدہ کٹائی اور ہوا کی گردش بہتر بنانا شامل ہے۔ پانی کی مناسب فراہمی اور زمین کی نمی بھی پھل کی نمو اور معیار کے لیے نہایت ضروری ہے۔
آلوبخارا کی داستان
الو بخارا کے درخت نسبتاً مزاحم ہیں، اس لیے ان پر سپرے کم ہوتے ہیں، مگر پھر بھی Powdery Mildew اور دیگر فنجی بیماریوں سے بچانے کے لیے Hexaconazole یا Wettable Sulphur استعمال کیا جاتا ہے۔
ہمارے مشاہدات سے یہ واضح ہوا ہے کہ الو بخارا پر سپرے کی کمی کے باوجود فصل محفوظ رہتی ہے اور مارکیٹ میں معیار بلند رہتا ہے۔ تاہم، متاثرہ پھل اٹھانا اور درخت کی باقاعدہ کٹائی کرنا فصل کی صحت کے لیے لازمی ہے۔ الو بخارا کی فصل میں عملی اقدامات کی پابندی سے نہ صرف پیداوار بہتر ہوتی ہے بلکہ پھل کا رنگ اور معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
عملی اقدامات اور تحقیقاتی نتائج
ہم نے اپنے تجربات سے یہ سیکھا کہ صرف دوا پر انحصار کافی نہیں ہے۔ عملی اقدامات کی ضرورت بھی برابر اہم ہے، جن میں شامل ہیں:
متاثرہ پھل زمین سے اٹھانا تاکہ بیماری درخت میں نہ پھیلے۔
درخت کی باقاعدہ کٹائی کر کے ہوا کی گردش بہتر بنانا۔
پانی کی مناسب فراہمی اور زمین کی نمی برقرار رکھنا۔
سال بہ سال دوا rotate کرنا تاکہ کیڑوں اور فنجی بیماریوں میں مزاحمت نہ پیدا ہو۔
سپرے کے صحیح وقت اور مناسب مقدار کو یقینی بنانا تاکہ فصل محفوظ رہے اور پھل کا معیار بلند ہو۔
یہ تمام اقدامات نہ صرف فصل کو محفوظ رکھتے ہیں بلکہ مارکیٹ میں پھل کی رنگت، معیار اور قیمت کو بھی بلند کرتے ہیں۔ ہر پھل، ہر کونپل اور ہر پتہ انسانی محنت، امید اور علم کا مظہر ہے۔
تحقیق کے نتائج اور اہم نکات
فروٹ سیٹ کے 3–4 دن بعد سپرے کرنا کیڑوں پر قابو پانے کے لیے بہترین ہے۔
10–15 دن بعد فنجی بیماریوں کے لیے سپرے کرنا فصل کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔


Comments
Post a Comment
Your comment may be moderated before it appears. Thank you for your patience and understanding.